2 جنوری 2021 - 16:57
آیت اللہ مصباح یزدی کے انتقال پرملال پر اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل کا تعزیتی پیغام

مرحوم اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی سپریم کونسل کے فعال رکن بھی تھے جو پندرہ سال کی مدت تک اس کونسل کی صدارت کے عہدے پر فائز رہے اور اسمبلی کی ترویج و توسیع، نیز شیعیان عالم کی ثقافتی اور فکری پوزیشن کو ترقی دینے میں انجام پانے والی سرگرمیوں کو صحیح سمت کی طرف موڑنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی مجلس اعلیٰ کے سابق سربراہ، مجلس خبرگان رہبری اور جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم کے ممبر آیت اللہ "محمد تقی مصباح یزدی" کے انتقال پر آیت اللہ رمضانی نے تعزیتی پیغام جاری کیا ہے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل کے پیغام کا ترجمہ حسب ذیل ہے:


بسم اللّه الرحمن الرحیم
قال الله الحکیم في کتابه الکریم: ﴿ إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ العُلَمَاءُ إنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ غَفُور﴾
(سوره فاطر، آیه ۲۸)

عالم ربانی، فقیہ مجاہد اور استاد اخلاق حضرت آیت اللہ الحاج شیخ محمد تقی مصباح یزدی کے المناک انتقال سے ایک بار پھر علمائے کرام اور بزرگان دین کی تعداد میں شدید کمی کا احساس ہوا۔
عقلی و نقلی علوم کو جمع کرنے والے اس عالم باعمل نے اپنی پوری مبارک زندگی کو مسلسل اہل بیت اطہار(ع) کی تعلیمات عام کرنے اور انقلاب اسلامی کے افکار کو وسعت دینے میں صرف کر دیا، اور بے مثال خدمات انجام دیں، چاہے وہ شہنشاہی ستم بھرے دور میں خفیہ طریقے سے دین کی نشر و اشاعت ہو، چاہے وہ منبر اور کلاس کے ذریعے الہی علوم اور اسلامی اخلاق کی ترویج ہو، اور چاہے وہ اسلامی جمہوریہ اور ولایت فقیہ کے دفاع کے میدان میں مخالفین کے مد مقابل استقامت کا مظاہرہ کرنے کا دور ہو، ہر دور میں آپ نے داد شجاعت پیش کیا۔
اسلامی علوم کے مختلف شعبوں جیسے تفسیر، حدیث، عقائد، فقہ، فلسفہ، حقوق، اخلاق و سیاست میں ایک سو سے زیادہ قابل قدر تصنیفات کا منظر عام پر آنا، جن کا دنیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ بھی ہو چکا ہے نیز آپ کی سرپرستی میں متعدد علمی اور تحقیقی جرائد کا شائع ہونا، اس مفکر دانشور کے باقیات صالحات میں شامل ہے جو روشن چراغ کے مانند علم و معرفت کے تشنگان کو سیراب کرتے رہیں گے۔
لیکن شائد اس ممتاز اسلامی مفکر کی عظیم ترین کامیابی کو "ایک دیندار اور انقلابی نسل کی تربیت" کی شکل میں جا سکتا ہے۔ ایسا کام جو انقلاب اسلامی سے قبل "موسسہ در راہ حق" کے عنوان سے آغاز کیا، اور شہنشاہی سامراجی ثقافت کے تسلط کے دور میں بچوں اور نوجوانوں کو اپنا مخاطب قرار دیا اور اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد "باقر العلوم (ع) ثقافتی فاؤنڈیشن"، " حوزہ اور یونیورسٹی معاون سینٹر" یا پھر "امام خمینی(رہ) تعلیمی و تحقیقی مرکز" کی شکل میں اپنی خدمات پیش کیں۔ اس جد و جہد کا نتیجہ یہ ہوا کہ سینکڑوں انقلابی علماء اور فضلاء کو تیار کر کے علمی معاشرے میں پیش کیا جنہوں نے حوزہ ہائے علمیہ اور یونیورسٹیوں میں موجود علمی خلاء کو پورا کیا اور حتیٰ فوج اور اجرائی سسٹم میں بھی کسی حد تک کمیوں کو دور کرنے میں کامیاب ہوئے۔
مرحوم اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی سپریم کونسل کے فعال رکن بھی تھے جو پندرہ سال کی مدت تک اس کونسل کی صدارت کے عہدے پر فائز رہے اور اسمبلی کی ترویج و توسیع، نیز شیعیان عالم کی ثقافتی اور فکری پوزیشن کو ترقی دینے میں انجام پانے والی سرگرمیوں کو صحیح سمت کی طرف موڑنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔
اس عالم بزرگوار کا معصومین علیہم السلام خصوصا حضرت ولیعصر (عجل اللہ تعلی فرجہ الشریف) سے معرفت و محبت کے ساتھ توسل مرحوم کے لیے عالم بقا اور دار القرار میں عظیم معنوی ذخیرہ ہو گا۔
میں اس ناقابل تلافی نقصان پر امام زمانہ (ع)، رہبر انقلاب اسلامی، مراجع تقلید، حوزوی اور دانشگاہی مراکز، مرحوم کے شاگردوں اور عقیدت مندوں خصوصا مرحوم کے معزز داماد حجۃ الاسلام و المسلمین محمدی عراقی ، زوجہ محترمہ اور فاضل و معزز اولاد کی خدمت میں تسلیت و تعزیت پیش کرتا ہوں۔
خداوند منان کی بارگاہ سے مرحوم مغفور کے لیے بلندی درجات اور اولیائے الہی کے ساتھ حشر و نشر کی نیز پسماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعا مانگتا ہوں۔
و انا للہ و انا الیہ راجعون
رضا رمضانی
............

242